ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اترکنڑا میں ٹول پلازہ کب بند کیاجائے گا؟ : شاہراہ تعمیر کریں یا پھر ٹول فیس بند کریں ،احتجاج کا انتباہ

اترکنڑا میں ٹول پلازہ کب بند کیاجائے گا؟ : شاہراہ تعمیر کریں یا پھر ٹول فیس بند کریں ،احتجاج کا انتباہ

Wed, 16 Nov 2022 19:37:54    S.O. News Service

کاروار :16؍ نومبر(ایس اؤ نیوز) دکشن کنڑا ضلع کےعوام جدوجہد کرتےہوئے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتےہیں، لیکن  اترکنڑا ضلع کے عوام صرف اپنے مسائل کو بتانے میں ہی دن گزارتے ہیں ۔ سورتکل ٹول گیٹ کا ہیجماڑی ٹول گیٹ میں شامل کیاجانا ہی اس کی ایک تازہ مثال ہے۔

سورتکل ٹول فیس ادائیگی کے خلاف مقامی لوگوں نے گذشتہ ایک سال سے جدوجہد جاری رکھتے ہوئے  حالیہ دنوں میں احتجاج کو شدت پیدا کردی تھی۔ مقامی لوگ بہت بڑی تعداد میں سڑک پر احتجاج کرنے کےعلاوہ  عوامی نمائندوں کو سخت انتباہ دیاتھا۔ حالات سےگھبرائے رکن پارلیمان نیلین کمار کٹیل نےمرکزی وزیرنتین گڈکری اور وزیراعظم سے باربار مطالبہ کرتےہوئے سورتکل ٹول پلازہ کو بند کرادیا ہے۔ لیکن اترکنڑا ضلع میں قومی شاہراہ کا کام ابھی پورا بھی نہیں ہواہے مگر پچھلے دوبرسوں سے ٹول فیس وصول کی جارہی ہے۔ اس سلسلےمیں کسی بھی عوامی نمائندے میں ہمت نہیں ہے کہ وہ کانٹراکٹ کمپنی سے  سوال کرے۔

ایم ایل اے اور ایم پی ان ٹول گیٹوں سے  سرکاری سہولیات کے پیش نظر مفت میں گزر جاتےہیں، انہیں عوامی مسائل کی یاد بھی نہیں آتی ۔ اسی لئے  سڑک ترقی کے نام پر ٹول فیس کی لوٹ مار جاری ہے۔ 8برس بیت گئے ابھی تک کاروار کی سرحد سے کنداپور کی سرحد تک قومی شاہراہ کا کام مکمل نہیں ہواہے۔ بھٹکل، ہوناور، کمٹہ میں آج بھی ٹرافک جام سے گزرنا پڑتاہے۔ اکثر مقامات پر سرویس روڈ نہیں ہے، کاروار کے پہاڑی علاقے میں چارپانچ کلومیٹر کاکام تقریباً بند ہوگیا ہے۔ سرنگ کی تعمیر پوری ہوگئی ہے لیکن ٹرافک کےلئےپتھر ڈالے گئےہیں۔ کاروار کے فلائی اوور کےستون گم ہوکر برس بیت چکے ہیں۔ اتنی ساری مشکلات اور مسائل کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا اور کمپنی کو فائدہ پہنچانے کےلئے بنائےگئے ٹول گیٹ پر کیوں مفت میں فیس ادا کریں۔ قومی شاہراہ کی تعمیر نامکمل ہے اس کے باوجود سال بہ سال ٹول فیس کمپنی کی طرح سے این ایچ آئی اے فیس میں اضافہ کیا جارہا ہے لیکن عوامی نمائندے نہ اس پر کوئی اعتراض جتارہے ہیں اور نہ ہی کوئی آواز اٹھارہے ہیں ، اتنا سمجھ لیں تو بہتر ہے کہ ان میں کسی کو ہمت ہی نہیں کہ وہ عوامی مسائل پر کوئی سوال کرسکے۔

وہاں ہوتاہے تو یہاں کیوں نہیں ؟:دکشن کنڑا ضلع  میں بی جے پی کے رکن پارلیمان ہیں۔ مرکز میں بھی انہی کی حکومت ہے، عوامی مسائل  کو لے کر وہاں کے عوام سورتکل ٹول پلازہ بند کرانے کی خاطر ایم پی پر دباؤ بنا کر کامیاب ہوتےہیں تو اترکنڑا ضلع کے ایم پی بھی بی جےپی کے ہی ہیں انہیں کیوں ممکن نہیں ہوگا؟۔یہاں بی جےپی کے ایم پی ضرور ہیں لیکن کہا جارہا ہے کہ دکشن کنڑا کی طرح یہاں کے لوگوں کو اس کام میں دلچسپی ہی نہیں ہے۔

ٹول پلازہ کب نکالاجائے گا؟:مرکزی وزیر نتین گڈکری نےکہاتھا کہ 80کلومیٹر کے دوران دو دو ٹول پلازہ ہیں تو انہیں نکالاجائےگا۔ لیکن کیاکریں ان کابیان ، بیان کی حدتک ہی ہے اس پر اب تک کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ہے۔ اترکنڑا ضلعی حدود کے انکولہ ، ہٹی کیری ، کمٹہ کے بڈگنی اور بھٹکل سےقریب شرور پر واقع ٹول پلازہ کا فاصلہ 80کلومیٹر کے اندر کا ہے۔ تو یہاں ان تین میں سےایک ٹول پلازہ کو لازمی طورپر ہٹایاجانا چاہئے لیکن ابھی تک اس تعلق سے نہ کوئی عوامی نمائندہ آواز اٹھارہا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی ہلچل نظر آرہی ہے۔ عوامی نمائندوں اور سیاسی لیڈروں کی خاموشی کے بعد اب  عوام خود اس تعلق سے احتجاج کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں، ان سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ یا توشاہراہ کا تعمیری کام تیزی کے ساتھ ختم کرے یا پھر ٹول گیٹ پر وصولی کا کام بند کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کرنا طے ہے۔


Share: